مسواک کی فضیلت واہمیت(۲)

مسواک کی فضیلت واہمیت۔قسط اول

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں صفائی ستھرائی کا جذبہ رکھاہے ،انسان فطری طور پاکی صفائی کا اہتمام کرتاہے ،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امورِ فطرت کو بیان فرمایا،امورِفطرت سے مراد وہ امور ہیں جن کا انسان کو مکلف اور پابند نہ کیاجائے ،ان امورکی تعلیم اوران کی تربیت نہ دی جائے ،تو بھی وہ کریں گے ۔ امورِفطرت: مونچھیں چھوٹی کرنا،ڈاڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک صاف کرنا،ناخن تراشنا،جوڑوں کو دھونا،بغل کے بال اکھاڑنا،زیرناف بالوں کو صاف کرنا،استنجاکرنا،دسویں چیزیں کلی کرناہے۔(رواہ مسلم عن عائشہؓ ،کتاب الطھارۃ ،باب خصال الفطرۃ : ۲۶۱)

اگرکوئی انسان ایک عرصہ ناخن نہ تراشے ،مونچھیں چھوٹی نہ کرے،بغل اورناف کے بال صاف نہ کرے ،ناک اور منہ کے اندرونی حصوں کو صاف نہ کرے،استنجامیں پانی کا استعمال نہ کرے ،تووہ آدمی انسان نہیں ؛بلکہ ایک بدبودار جنگلی جانورہی معلوم ہوگا ۔

اسلام ان امور ِفطر ت کی مزیدتاکیدکرتاہے اور صفائی ستھرائی کو ایمان واسلام کا لازمی جزء قراردیتاہے ،بطورخاص مسواک جو منہ کی صفائی کا ذریعہ ہے ،ان وجوہ کی بناپررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے مشقت میں مبتلاہونے کا خدشہ وخوف مجھے نہ ہوتا،تو میں انہیں ہرنماز کے موقع پر مسواک کا حکم دیتا۔(؛لیکن ہرشخص کو ہرنمازکے موقع پر مسواک کا میسرآنا دشوارہوسکتاہے ،اس وجہ سے میں اس کو لازم نہیں کررہاہوں )(رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃؓ ،البخاری ،کتاب الجمعۃ ،باب السواک یوم الجمعۃ: ۸۸۷)

منہ ذکرِالہی ،تلاوتِ قرآن اورمناجات ِربانی کا ذریعہ ہے ،نماز بندے کی معراج ،اللہ سے قرب اوراس سے ہم کلامی کا ذریعہ ہے ،لہذا اس وقت جس طرح اپنے ظاہر کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے ،اسی طرح اپنے باطن کو بھی صاف ستھرا رکھنابے ضروری ہے ،جوفرشتے ہم سے قرآن سننے کے لیے آتے ہیں ،وہ ہماری زبان سے بالکل قریب ہوتے ہیں ؛حتی کہ ہمارے منہ پر اپنا منہ رکھ دیتے ہیں ،ہمارے منہ کی بوسے جس طرح انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے ،اسی طرح فرشتوں کوبھی اذیت پہنچتی ہے،لہذا منہ کی بو وغیرہ سے انہیں تکلیف دینا مناسب نہیں ہے ،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھرمیں تشریف لے جاتے ،تو سب سے پہلے مسواک فرماتے ؛تاکہ گھر والے جب مجھ سے قریب ہوں ،تو انہیں کوئی تکلیف اورگھن محسوس نہ ہو ،نیند سے بیدارہوتے ،تو سب سے پہلےنماز تہجد کی ادائیگی کے لیے مسواک فرماتے ،وضو کے وقت مسواک فرماتے اور نماز کے وقت مسواک فرماتے ۔

حضرت ابوایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ المُرْسَلِينَ: الحَيَاءُ، وَالتَّعَطُّرُ، وَالسِّوَاكُ، وَالنِّكَاحُ۔(رواہ الترمذی،کتاب النکاح،باب ماجاء فی فضل التزویج: ۱۰۸۰)

چارچیزیں حضرات انبیاء علیم الصلاۃ والسلام کی سنتوں میں شامل ہیں : حیا، خوش بو،مسواک اور نکاح

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کا بہت اہتمام فرماتے تھے؛یہاں تک آپ کے مسوڑھوں کے زخمی ہونے کا خطرہ پیداہوجاتاتھا ،امت کو اس کی ترغیب دیتے اورجبرئیل علیہ السلام آپ کوباربار مسواک کی تلقین وتاکید فرماتے رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کانہایت اہتمام فرماتے تھے؛یہاں تک کہ دنیاسے رخصت ہوتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں حاضری کےوقت مسواک فرماکر حاضرہوئے۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلاتھے،میںنے آپ کو اپنےسینے کاسہارا دے رکھا تھا،میرے بھائی عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ تازہ پیلو کی لکڑی مسواک کرتے ہوئے گھرمیں داخل ہوئے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنی نگاہ اٹھائی ،(میں سمجھ گئی کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں،اس لیےمیں نے اپنے بھائی سے کہا:عبدالرحمن !) یہ مسواک مجھے دے دو،انہوں نے مسواک دے دی،میں نےاس کو توڑا اور خوب چباکر صاف ستھرا کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ،(اس لیے کہ آپ کے اندربہت کمزوری پیداہوچکی ہے،چبانا مشکل تھا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت اچھے طریقے پر مسواک فرمائی ،مسواک سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور

اللھم الرفیق الاعلی۔

تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ !رفیق اعلیٰ کا انتخاب کرتاہوں ،پھرآپ دنیا سے رخصت ہوگئے ۔(رواہ البخاری ،کتاب المغازی،باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ : ۴۴۳۸)

حضر ت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

تَسَوَّكُوا، فَإِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ، مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ إِلَّا أَوْصَانِي بِالسِّوَاكِ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيَّ، وَعَلَى أُمَّتِي، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ، وَإِنِّي لَأَسْتَاكُ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مَقَادِمَ فَمِي۔(رواہ ابن ماجہ،کتاب الطھارۃ، باب السواک: ۲۸۹)

مسواک کااہتمام کرو ،مسواک منہ کی صفائی اور رب کی رضامندی کا ذریعہ ہے ،جبرئیل علیہ السلام جب بھی میرے پاس آئے ،انہوں نے مجھے مسواک کی تاکید کی ؛یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں مسواک میری امت پر فرض نہ کردی جائے ،میری امت کے مشقت میں مبتلاہونے کا خدشہ وخوف مجھے نہ ہوتا،تو میںہرنماز کے لیے ان پر مسواک کولازم کردیتا،میں اس قدرمسواک کرتاہوں کہ مجھے اپنے مسوڑوں کے زخمی ہونے کا اندیشہ ہونے لگتاہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لأن أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بسواك أحب إِلَيّ من أَن أُصَلِّي سبعين رَكْعَة بِغَيْر سواك۔(رواہ ابونعیم فی کتاب السواک باسنادجید ،الترغیب والترھیب للمنذری ،کتاب الطھارۃ ،الترغیب فی السواک وماجاء فی فضلہ: ۳۳۵)

حضرت عائشہ ؓاورحضرت جابرؓسے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

فَضْلُ الصَّلَاةِ بِسِوَاكٍ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ سِوَاكٍ سَبْعِينَ صَلَاةً۔(رواہ احمد،والبزار،وابویعلی ،وقدصححہ الحاکم ،مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ ،باب السواک: ۲۵۵۴)

رَكْعَتَانِ بِالسِّوَاكِ أفضل من سبعين رَكْعَة بِغَيْر سواك۔(رواہ ابونعیم عن جابرؓباسناد حسن ،الترغیب ، ،کتاب الطھارۃ ،الترغیب فی السواک وماجاء فی فضلہ: ۳۳۲)

مسواک کے ساتھ دورکعت نماز پڑھنا مسواک کے بغیر ستررکعت نماز سے پڑھنے سے افضل ہے ۔

مسواک کڑوے درخت کی لکڑی سے تیارکی جائے جو نہ بہت زیادہ سوکھی ہو،نہ بہت زیادہ تازہ ،نہ بہت زیادہ نرم ہو ،نہ بہت زیادہ سخت ، ایک انگلی کے بقدرموٹی اورابتداء ً ایک بالشت کے بقدرلمبی ہو ۔(ردالمحتار،کتاب الطھارۃ ،سنن الوضو۱؍۲۳۴)

کسی بھی مناسب کڑوے اورغیرمضر درخت کی لکڑی سےمسواک بناکر استعمال کی جاسکتی ہے ،جومنہ کو صاف کرنے والی اوربوکو زائل کرنے والی لکڑی جیسے پیلو،زیتون ، نیم اورکرنچ کی لکڑی اورمنہ ،مسوڑوں اورطبیعت کے لیےنقصان دہ نہ ہو، ؛البتہ پیلو کے درخت کی مسواک یازیتون کی مسواک افضل ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیلو کے درخت کی مسوا ک فرمائی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں جو مسواک فرمائی وہ پیلو کے درخت کی مسواک تھی جس کی صراحت مستدرک حاکم میں موجودہے۔(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ ،ذکرالصحابیات من ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۶۷۱۹)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیلو کے درخت کی مسواک تیارکرکے دے دیتے تھے۔(مسندابوداؤد طیالسی: ۳۵۳)

ابوخیرہ صباحیؓ فرماتے ہیں

 میں ایک جماعت کے ہم راہ آپ کی خدمت میں حاضرہوا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیلو کے درخت کی مسواک بطورہدیہ دی ۔(رواہ الطبرانی فی الکبیر واسنادہ حسن ،مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب بای شیء یستاک: ۲۵۷۵،والبخاری فی التاریخ الکبیر)

حضرت معاذبن جبلؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا

نِعْمَ السِّوَاكُ الزَّيْتُونُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ، تُطَيِّبُ الْفَمَ، وَتُذْهِبُ بِالْحَفْرِ، وَهُوَ سِوَاكِي وَسِوَاكُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي-

اس مضمون کی دوسری قسط دوم اورقسط سوم کے مطالعے کے لیے ان ہی موضوعات پر کلک کریں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *