قربانی اورعقل انسانی قسط دوم
|

قربانی اورعقل انسانی قسط دوم

بعض لوگ جو سبزی خورہیں اورگوشت خوری پرمسلمانوں کو طعنہ دیتے ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ گوشت خوری سے انسان میں درندگی اورحیوانیت پیداہوتی ہے ۔

اس سوال کاجواب یہ ہے کہ گوشت خوری انسانی فطرت کا حصہ ہے،جب سے دنیا وجودمیں آئی ہے،تب ہی سےانسان گوشت کھارہاہے،دینِ اسلام سمیت دیگر مذاہب میں بھی گوشت خوری کو ممنوع نہیں کہا گیا ہے؛ بلکہ گوشت خوری کی ترغیب پائی جاتی ہےاور یہی چیز سائنسی، عقلی اور فطری طور پر صحیح بھی ہے اور انسانی جسم کی ساخت بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہے؛ البتہ اسلام نے واضح طور پر درندوں اور خبیث جانوروں کے گوشت سے منع کیا ہے؛ تاکہ مسلمانوں میں درندگی اور خباثت نہ ہو۔

سائنسی طور پر یہ بات پایۂ ثبوت تک پہنچی ہوئی ہے کہ گوشت خوری کا اثر انسان میں شجاعت، بہادری ، جوش و خروش ، بے باکی اور اسی قسم کی دوسری صفات کے رنگ میں ظاہر ہوتاہے۔

دراصل گوشت نائٹروجن، چربی، نمکیات اور پانی کا مجموعہ ہوتا ہے، ہمارے جسم کے رگ و ریشے زیادہ تر نائٹروجنی مرکبات سے بنے ہوئے ہوتے ہیں، ہمارا جسم مشقت،ورزش اور مختلف حرکات سے جب تحلیل ہونا شروع ہوجاتا ہے، تو اس کمی کو صرف نائٹروجنی غذا سے پورا کیا جاسکتا ہے، نائٹروجنی غذا ہی سے ہمارے جسم کی نشوونما ہوتی ہے، ماہرین غذا کا کہنا ہے کہ پروٹین نباتاتی غذاؤں کی نسبت گوشت میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔

’’گو تم بدھ‘‘ جن کوتم عدم تشدد اور رحم دِلی کا سب سے بڑا داعی ماتنے ہو،کیا یہ گوشت نہیں کھاتے تھے ؟ ’’گوتم بدھ‘‘ نہ صرف گوشت خور تھے؛ بلکہ آخری وقت میں بھی گوشت کھاکر ہی ان کی موت ہوئی تھی ۔

’’کرشن‘‘ ’’ رام‘‘ اور’’ شیو‘‘ سے’’ ساور‘‘کر تک سبھی نان ویج تھے، ساورکر نے’’ گاندھی جی‘‘ کو نان ویج نہ کھانے پر کہا کہ آپ بنا گوشت کھائے آزادی کی لڑائی کیسے لڑیں گے؟

ہندو دھرم کی کتاب ’’منو سمرتی‘‘کے باب نمبر۵کے شلوک نمبر۳۰ میں ہے:جو شخص(ان جانوروں کا) گوشت کھائے جن کا گوشت کھانا چاہیے، تو وہ کوئی بُرا کام نہیں کررہاہے ،چاہے وہ ایسا روزانہ کرے؛ کیوں کہ خدا نے کچھ چیزیں کھانے کے لیے پیدا کی ہیں اور کچھ کو ان چیزوں کو کھانے کے لیے پیدا کیا ہے۔

’’منوسمرتی‘‘ چاپٹرنمبر پانچ، شلوک۳۵میں ہے: ” شاستر ‘‘کی ودھی سے جو مانس شدھ ہوتا ہے، اس کو جو نہیں کھاتا ،پرلوک میں اکیس جنم تک جانور ہوتا ہے۔

ہٹلر سے بھی بڑھ کر کوئی تشدد، ظلم و ستم اور بے رحمی کا نمائندہے؟ لیکن ہٹلر گوشت خور نہیں تھا،پھر بھی درندگی وحیوانیت اس کی مزاج میں انتہاء کوپہنچی ہوئی تھی ، اس کے بارے میں آتا ہے کہ ویج استعمال کرتاتھا،پھربھی حیوان ودرندہ بناہواتھا ۔

اللہ تعالیٰ کا یہ نظام چلا آ رہا ہے کہ انسانوں یا جانوروں کو جس چیز کی جتنی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، حق تعالیٰ شانہ اُس کی پیدائش اور پیداوار اُسی کےقدربڑھا دیتے ہیں اور جس چیز کی جتنی ضرورت کم ہوتی ہے، اس کی پیداوار اتنی ہی کم ہو جاتی ہے، آپ پوری دنیا کا جائزہ لیں، جن ممالک میں قربانی کے اس عظیم الشان حکم پر عمل کیا جاتا ہے، کیا ان ممالک میں قربانی والے جانور ناپید ہو چکے ہیں؟ یا پہلے سے بھی زیادہ موجود ہیں؟

آپ کبھی اور کہیں سے بھی یہ نہیں سنیں گے کہ دنیا سے حلال جانور ختم ہو گئے ،یا اتنے کم ہوگئے ہیں کہ لوگوں کو قربانی کرنے کے لیے جانور میسر نہیں آئے، اس کے برخلاف کتے اور بلیوں کو دیکھ لیں، ان کی نسل دنیا میں کتنی ہے؟حضرت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ مندرجہ ذیل آیت کی تفسیرمیں تحریرفرماتے ہیں

وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْیٍٔ فَھُوَ یُخْلِفُہٗ ۔(سبا:۳۹)

اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اپنے خزانۂ غیب سے تمہیں اس کا بدل دے دیتے ہیں، کبھی دنیا میں اور کبھی آخرت میں اور کبھی دونوں میں۔

کائنات ِ عالَم کی تمام چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے، انسان اور جانور اس کو بے دھڑک خرچ کرتے ہیں، کھیتوں اور درختوں کو سیراب کرتے ہیں، وہ پانی ختم نہیں ہوتا کہ دوسراپانی اس کی جگہ نازل ہو جاتا ہے، اسی طرح زمین سے کنواں کھود کر جو پانی نکالا جاتا ہے، اس کو جتنا نکال کر خرچ کرتے ہیں ،اس کی جگہ دوسرا پانی قدرت کی طرف سے جمع ہو جاتا ہے، انسان غذا کھا کر بظاہر ختم کر لیتا ہے؛ مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسری غذا مہیا کر دیتے ہیں،بدن کی نقل وحرکت اور محنت سے جو اجزاء تحلیل ہو جاتے ہیں، ان کی جگہ دوسرے اجزاء بدل بن جاتے ہیں۔

غرض انسان دنیا میں جو چیز خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عام عادت یہ ہے کہ اس کے قائم مقام اُس جیسی دوسری چیز دے دیتے ہیں، کبھی سزا دینے کے لیے ،یا کسی دوسری تکوینی مصلحت سے اس کے خلاف ہو جانا ،اس ضابطۂ الٰہیہ کے منافی نہیں۔۔۔

اس آیت کے اشارےسے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیا ءصرف انسان اور حیوانات کے لیے پیدا فرمائی ہیں، جب تک وہ خرچ ہوتی رہتی ہیں، ان کا بدل من جانب اللہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔

جس چیز کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار بھی بڑھا دیتے ہیں، جانوروں میں بکرے اور گائے کا سب سے زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ ان کو ذبح کر کے گوشت کھایا جاتا ہے اور شرعی قربانیوں اور کفارات وجنایات میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ جتنے زیادہ کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ اس کی پیداوار بڑھا دیتے ہیں، جس کا ہر جگہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بکروں کی تعداد ہر وقت چھری کے نیچے رہنے کے باوجود دنیا میں زیادہ ہے۔

کتے بلی کی تعداد اتنی نہیں؛حالاں کہ کتے بلی کی نسل بظاہر زیادہ ہونی چاہیے کہ وہ ایک ہی پیٹ سے چار پانچ بچے تک پیدا کرتے ہیں، گائے بکری زیادہ سے زیادہ دو بچے دیتی ہے، گائے بکری ہر وقت ذبح ہوتی ہے، کتے بلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا؛ مگر پھر بھی یہ مشاہدہ ناقابلِ انکار ہے کہ دنیا میں گائے اور بکروں کی تعداد بنسبت کتے بلی کے زیادہ ہے۔ ۔۔۔

عرب نے جب سے سواری اور باربرداری میں اونٹوں سے کام لینا کم کر دیا، وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی، اس سے اُس ملحدانہ شبہ کا ازالہ ہو گیا، جو احکامِ قربانی کے مقابلے میں اقتصادی اور معاشی تنگی کا اندیشہ پیش کر کے کیا جاتا ہے۔(معارف القرآن، سورۃ السبا۷؍۳۰۳) اصلاحی مضامین ومقالات : ۲۲۹تا۲۳۲) مرتب : عبداللطیف قاسمی ،جامعہ غیث الہدی ،بنگلور

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *