مسواک کی فضیلت واہمیت قسط دوم
مسواک کا شرعی حکم
تمام ائمہ کے نزدیک مسواک سنت ہے ،وضومیں سنت ہے،نمازکے لیے سنت ہے ،نیند سے بیدارہونے کے بعد سنت ہے ،منہ میں بدبو پیداہوجائے ،تومسواک سنت ہے،نیز روزے سے ہو ،بلاروزہ ،قبل زوال ہو،یابعدزوال،ہرحال میں ہروقت مسواک سنت ہے ،جن کی تفصیلات مندرجہء ذیل ہیں۔
انَّ السِّوَاكَ سُنَّةٌ لَيْسَ بِوَاجِبٍ فِي حَالٍ مِنَ الْأَحْوَالِ لَا فِي الصَّلَاةِ وَلَا فِي غَيْرِهَا بِإِجْمَاعِ مَنْ يُعْتَدُّ بِهِ فِي الْإِجْمَاعِ۔(شرح مسلم للنووی،کتاب الطھارۃ ،باب السواک)
مسواک کرنے کا طریقہ
اوّلاًمسواک داہنے ہاتھ میں اس طرح پکڑے کہ خنصر (چھوٹی انگلی) مسواک کے نیچے ہو ،بقیہ تین انگلیاں مسواک کے اوپر اورانگوٹھا مسواک کے سرے میں ننیچے کی جانب ہو ،پھر منہ کی چوڑائی میں مسواک کرے ،اوّلًا داہنی جانب کے اوپروالے دانتوں پر ،پھر بائیں جانب کے اوپروالے دانتوں پرمسواک کرے ،پھراسی ترتیب پر داہنی طرف کے نیچے اوربائیں جانب کے نیچے کے دانتوں پر مسواک کرے ،زبان پر لمبائی میں مسواک کرے ،مسوڑوں اورتالوپر بہت ہلکے اورنرم طریقے پرمسواک کرے ،جتنی دیرمنہ کے صفائی میں وقت لگے ،حسب ِموقع اورحسب ضرورت اُتنی دیر مسواک کرے ،مسواک سےفارغ ہونے کے بعد اسے دھوکررکھے۔(البحرالرائق ،کتاب الطھارۃ،۱؍۴۱ ،ردالمحتار،کتاب الطھارۃ ،سنن الوضو۱؍۲۳۴)
حضرت ابوموسی اشعری ؓ فرماتے ہیں
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک فرمارہے تھے ،آپ ’’اُع‘‘،’’اُع ‘‘کی آواز نکال رہے تھے ۔ (رواہ البخاری ،کتاب الوضوء ، باب السواک: ۲۴۴)
یعنی جب زبان پرمسواک یا انگلی سے صفائی کی جاتی ہے ، ،تو قئی کی سی کیفیت میں مبتلاشخص کی آواز کی طرح آواز نکلتی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم زبان پر مسواک فرمارہے تھے، جس کی وجہ سے آپ کے منہ سے اس طرح کی آواز نکل رہی تھی ،حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ نے اس کیفیت کوعملًا بیان کیاہے۔
بہت ساری روایات میں منہ کی چوڑائی میں مسواک کرنے کی ترغیب واردہوئی ،منہ کی چوڑائی میں مسواک کرنا طبی اعتبارسے بھی مفید ہے، اس لیے کہ مسوڑےزخمی نہیں ہوں گے ،نیز خون نکلنے کا خطرہ بھی نہیں ہوگا ،اگرکوئی شخص لمبائی میں مسواک کرے ،تو مسواک کی سنت اداہوجائے گی ۔
مسواک کن مواقع میں مسنون
انسان منہ سے اللہ کے کلام کی تلاوت کرتاہے ،ذکرکرتاہے،لوگوں سے ملتاجلتاہے ،منہ کی صفائی اوربدبوکے ازالے کے لیے مسواک کو رکھاگیاہے،لہذا منہ کو صاف ستھرا رکھناچاہئے ،نماز،ذکرِالہی ،تلاوت ِقرآن ،درس قرآن ،درس حدیث وغیرہ علمی ودینی اعمال ومجالس میں شرکت کے لیے مسواک کا اہتمام کرنامستحب ہے، جب کسی چیز کے کھانےپینے سے ،یا دیرتک کچھ نہ کھانے سے بدبوپیداہوگئی ہو ،یادانت پیلے پڑگئے ہوں،تو ان صورتوں میں مسواک کرنا سنت ہے ؛البتہ مندرجہ ٍذیل صورتوں میں مسواک کی زیادہ تاکید آئی ہے ،اس لیے کہ ان مواقع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطورخاص مسواک فرماتے تھے۔
إِنَّ السِّوَاكَ مُسْتَحَبٌّ فِي جَمِيعِ الْأَوْقَاتِ وَلَكِنْ فِي خَمْسَةِ أَوْقَاتٍ أَشَدُّ اسْتِحْبَابًاأَحَدُهَا (۱)عِنْدَ الصَّلَاةِ سَوَاءٌ كَانَ مُتَطَهِّرًا بِمَاءٍ أَوْ بِتُرَابٍ أَوْ غَيْرَ مُتَطَهِّرٍ كَمَنْ لَمْ يَجِدْ مَاءً وَلَا تُرَابًاالثَّانِي(۲) عِنْدَ الْوُضُوءِ الثَّالِثُ (۳)عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ الرَّابِعُ (۴)عِنْدَ الِاسْتِيقَاظِ مِنَ النَّوْمِ الْخَامِسُ(۵) عِنْدَ تَغَيُّرِ الْفَمِ وَتَغَيُّرُهُ يَكُونُ بِأَشْيَاءَ مِنْهَا تَرْكُ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ، وَمِنْهَا أَكْلُ مَا لَهُ رَائِحَةٌ كَرِيهَةٌ، وَمِنْهَا طُولُ السُّكُوتِ، وَمِنْهَا كَثْرَةُ الْكَلَامِ۔(شرح مسلم للنوی ،کتاب الطھارۃ ،باب السواک،البحرالرائق ،کتاب الطھارۃ،۱؍۴۱،ردالمحتار،کتاب الطھارۃ ،سنن الوضو۱؍۲۳۴)
مسواک وضوکے وقت
وضوکے دوران کلی کرنے کے بعد مسواک کا اہتمام کرنا چاہئے ،یہ مسواک کا بہترین موقع ہے ،اس وقت مسوڑوں سے خون نکل آئے ،تو اس کی صفائی کا موقع ہوتا ہے ،سنت کے مطابق وضوکرنے کے بعد متعدد عبادتیں وہ کرسکتاہے ،ان عبادتوں کی ادائیگی مسواک کے ساتھ شمارکی جائے گی ،اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ۔(رواہ احمد فی مسندہ عن ابی ھریرۃؓ: ۹۹۲۸،صحیح ابن خزیمہ ،وراہ الشافعی )
میری امت کے مشقت میں مبتلاہونے کا خدشہ وخوف مجھے نہ ہوتا،تو میں انہیں ہروضو کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔(؛لیکن جب جب بھی کوئی شخص وضوکرے ،اس کے لیے مسواک کا میسرہونا دشوارہوسکتاہے ،اس وجہ سے میں اس کو لازم نہیں کررہاہوں )
نماز کےلیے مسواک
نماز پڑھنے کے لیے مسواک سنت ہے ،خواہ فرض نمازہو(پنج وقتہ اورنمازجمعہ) ،یاواجب (وتر،عیدین )،یاسنت یانوافل ذوات الاسباب،(تحیۃ الوضو،تحیۃ المسجد ،صلاۃ الکسوف ،یا نمازِ تہجد ،سب کے لیے مسواک سنت ہے ،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کے دروان دودو رکعت پر مسواک کیاکرتے تھے ۔(رواہ مسلم عن عبداللہ بن عباسؓ ،باب صلاۃ المسافرین ،با ب الدعاء فی صلاۃ اللیل وقیامہ: ۷۶۳)
حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ ،لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلاَةٍ۔(رواہ الشیخان ،البخاری ،کتاب الجمعۃ ،باب السواک یوم الجمعۃ: ۸۸۷)
میری امت کے مشقت میں مبتلاہونے کا خوف وخدشہ مجھے نہ ہوتا،تو میں انہیں ہرنماز کے موقع پر مسواک کا حکم دیتا(؛لیکن ہرشخص کو ہرنمازکے موقع پرمسواک کا میسرآنا دشوارہوسکتاہے ،اس وجہ سے میں اس کو لازم نہیں کررہاہوں )۔
نماز کا وقت قریب ہے ،نمازکے لیے کسی نے وضوکیاہے ،اُس وضومیں نماز کی ادائیگی کی نیت سے مسواک کیا ،تو وضومیں مسواک کی سنت اداہو گی ،نیز نماز کے لیے مسواک کی سنت بھی اداہوجائے گی ،مسواک کے وضوسے نمازپڑھنےکے جوفضائل ہیں ،وہ بھی حاصل ہوجائیں گے ۔ان شاء اللہ ۔
ایک شخص نے نمازِ عصرکے لیے وضوکیا،یا کسی اورعبادت کی نیت سے وضوکیا ،اس وضومیں مسواک بھی کیا،پھرنماز مغرب کی ادائیگی کا وقت آگیا،اُس شخص کا وضوباقی ہے ،اب اس شخص کے لیے دوبارہ نماز کی نیت سے مسواک کرنا سنت ہوگا۔
ایک شخص نے وضوکیا،کسی وجہ سے مسواک نہیں کرسکا ،نماز کا وقت آگیا ،اب اُس شخص کے لیے مسواک کرکے نماز پڑھنا سنت ہوگا ۔
کوئی باوضو شخص وضوکے بعد کوئی چیز(بطورخاص گوشت وغیرہ جن کے استعمال سے منہ میں بوپیداہوجاتی ہے،یا اس کے ذرات دانتوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں ) کھایا، پیاہے ،یا پیاز لہسن وغیرہ کھایا ہے ،یاموجودہ زمانے میں مختلف قسم کی بدبودارچیزیں (پان ،پان پراگ،اس کی دیگراقسام کواستعمال کیاہے )،اب اس شخص کے لیے مسواک کرنا بہت اہم ہوجائے گا ؛تاکہ ان چیزوں کی بدبو منہ سے زائل ہوجائے ،فرشتوں اور نمازیوں کو اذیت نہ پہنچے ۔
علامہ نوویؒ نے یہاں تک لکھاہے کہ اگرکسی شخص نے عذرکی بناپرتیمم کیا،اگراس کے لیے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ،تو نمازکے لیےمسواک کرنا سنت ہوگا۔ (شرح مسلم للنوی ،کتاب الطھارۃ ،باب السواک)
اس مضمون کی قسط اول مطالعہ کرنے کے لیے ان ہی سطروں پر کلک کریں۔ مسواک کی فضیلت واہمیت قسط سوم کے مطالعے کے ان ہی کلمات پر کلک کریں۔
