مسواک کی فضیلت اوراہمیت قسط سوم
تلاوتِ قرآن کے لیے مسواک
جب آدمی اللہ کے کلام کی تلاو ت کرتاہے ،تو اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے ،فرشتے تلاوت کرنے والےکو گھیرلیتے ہیں ، قرآن سنتے ہیں ،فرشتے تلاوت کرنے والے سے اس قدرقریب ہوجاتے ہیں کہ تلاوت کرنے والے کے منہ پر اپنا منہ رکھ دیتے ہیں ،تلاوت کے موقع پر نماز میں ہو، یا نماز کے باہر ،مسواک کا اہمتام کرنا چاہئے ،نیز درسِ قرآن ،درسِ حدیث ،دینی علوم کے اسباق ،دینی وعلمی مجالس میں شرکت کے موقع پر مسواک کا اہتمام کرناچاہئے ۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا
إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَسَوَّكَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَامَ الْمَلَكُ خَلْفَهُ، فَيَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ، فَيَدْنُو مِنْهُ – أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا – حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ، فَمَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا صَارَ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ، فَطَهِّرُوا أَفْوَاهَكُمْ لِلْقُرْآنِ۔(روا ہ البزار، ورجالہ ثقات ،مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب السواک:۲۵۶۴)
جب بندہ مسواک کرتاہے،پھرنماز کے لیے کھڑاہوتاہے،توفرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہوتاہے ،اس کا قرآن غورسے سنتاہے،اس نمازی سے قریب ہوتاہے ؛یہاں تک کہ فرشتہ اپنامنہ فرشتے کے منہ پر کھ دیتاہے ،جوبھی قرآنی آیت اُس کے منہ سے نکلتی ہے ،سیدھے فرشتے کے اندرداخل ہوتی ہے ،لہذا تم لوگ قرآن کی تلاوت کرنے کے لیےاپنے منہ کو پاک صاف کرو
روایت نمازمیں تلاوت سے متعلق ہے ،خارج ِنماز تلاوت ،نیز درس قرآن وحدیث بھی تلاوت قرآن سے ملحق ہوں گے ،درس قرآن ،درس حدیث اورتعلیمی حلقوں کے ادب واحترام کا تقاضاہے کہ مسواک کے ساتھ ان مجلسوں میں شرکت کی جائے
مسواک نیندسے بیداری کے بعد
حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں
اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ-(رواہ البخاری ،کتاب الجمعۃ ،باب طول القیام فی صلاۃ اللیل : ۱۱۳۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز ِتہجد کے لیے بیدارہوتے ،تو اپنے منہ کومسواک سے صاف فرماتے
سوکر اٹھنےکے بعد خواہ رات ہو،یا دن ،نماز کا وقت قریب ہے ،نمازکے لیے وضوبنائے ،تواس وضو میں مسواک کرے ،اگرنماز کا وقت قریب نہیں ہے ،یافوری طورسے وضوکی ضرورت ،یا ارادہ نہیں ہے ،تو نیندسے بیدارہونے کے بعد مسواک کرنا سنت ہوگا۔
لہذاان صورتوں میں مسواک کرنے میں جلدی کرنا چاہئے ،اس لیے کہ اُس شخص کو گھروالوں،یاکسی اورشخص سے بات چیت کی ضرور ت پیش آسکتی ہے ،سامنے والوں کو منہ کی بوسے تکلیف اورگھن ہوسکتی ہے،کچھ کھانے پینے کی ضرورت پیش آسکتی ہے ،کم ازکم منہ کی صفائی کے بغیر وہ کیسے کھائے گا،یا پئے گا ؟ اس لیے نیندسے بیدارہونے کے بعد مسواک مستقل سنت ہے
گھرمیں داخل ہونے کے بعدمسواک
حضرت شریح ؒفرماتے ہیں
میں نے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھرمیں داخل ہوتے ،تو اولًا کیا کام کرتےتھے؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا
كَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ، بَدَأَ بِالسِّوَاكِ۔( رواہ مسلم ،کتاب الطھارۃ ،باب السواک:۲۵۳)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھرمیںداخل ہوتے ،تو سب سے پہلے مسواک فرماتے
جب انسان باہرسے اپنےگھرآتاہے ،توگھرکے افراد اہلیہ ،اولاد اور گھرکے دیگر افرادبے تکلفی سے قریب ہوکر بات چیت کرتے ہیں ،آدمی باہرسے آیاہے،دیرتک کسی چیز کے نہ کھانے ،گرمی کی شدت سے زبان کے سوکھ جانے ،یا کسی اوروجہ سے منہ میں بدبوہوسکتی ہے،اسی حال میں ان سے گفتگومیں لگ جائے گا ،منہ کی بدبو سے انہیں تکلیف ہوگی ،گھن اورنفرت پیداہوگی ،بطورخاص اہلیہ سے متعلق یہ باتیں نہایت خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں ،ہمیشہ کے لیے اہلیہ کے دل میں شوہر کی نفرت اورگھن پیداہوسکتی ہے
لہذا جب کوئی انسان باہرسے گھرمیں داخل ہو ،تواولاً مسواک کرے ،پھراہل خانہ سے گفتگو کرے ،رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیاری سنت پر عمل ہوگا ،اس کی برکت سے اہل خانہ کے درمیان محبت والفت برقراررہے گی
مسئلہ: دوسروں کی مسواک ان کی اجازت سے استعمال کرسکتے ہیں۔
مسئلہ: بچوں کو مسواک عادت ڈالنی چاہئے۔
لَا بَأْسَ بِاسْتِعْمَالِ سِوَاكِ غَيْرِهِ بِإِذْنِهِ ،وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يُعَوَّدَ الصبي السواك ليعتاده ۔(شرح مسلم للنوی ،کتاب الطھارۃ ،باب السواک)
مسواک نہ ہو،تو کیاکرے
مسواک کرنے کے لیے کوئی لکڑی میسرنہ ہو ،تو انگلیوں سے دانت،مسوڑوں،زبان اورتالو کو اچھی طریقے سے صاف کرے ،دانتوں کی صفائی میں استعمال کیاجانے والا برش،کھردرے کپڑے،دانتوں کی صفائی کا منجن اورمنہ کی صفائی میں استعمال ہونے والےکسی سیال مادے سے بھی منہ کی صفائی کی جائے ،جس سے منہ کی بوزائل ہوجائے ،تو مسواک کی نفس سنت اداہوجائے گی۔ ان شاء اللہ۔البتہ مسنون مسواک کی سنت باقی رہے گی ۔(مستفادازشرح مسلم للنوی ،کتاب الطھارۃ ،باب السواک)
عمربن عوف مزنی ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اَلْأَصَابِعُ تُجْزِي مَجْزَى السِّوَاكِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ سِوَاكٌ۔(رواہ الطبرانی فی الاوسط ،کثیر ضعیف ،وقدحسنہ الترمذی،مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب مایفعل عندعدم السواک: ۲۵۷۷)
مسواک موجودنہ ہونے کی صورت میں انگلیاں مسواک کے قائم مقام ہوجائیں گی
منہ میں دانت نہ ہوں، مسواک کیسے کرے
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا
يَا رَسُولَ اللَّهِ!الرَّجُلُ يَذْهَبُ فُوهُ، يَسْتَاكُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ:يُدْخِلُ أُصْبُعَهُ فِي فِيهِ فَيُدَلِّكُهُ۔۔(مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ،باب السواک لمن لیست لہ اسنان: ۲۵۷۴)
یارسول اللہ! جس کے منہ میں دانت نہ ہوں ،وہ بھی مسواک کرے گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ،وہ شخص بھی مسواک کرے گا ،میں نے عرض کیا : وہ شخص کیسے مسواک کرے گا ؟(اس کے منہ میںدانت نہیں ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی انگلی سے مسواک کرے گا
یعنی منہ میں انگلی ڈال کر منہ کی چوڑائی،مسوڑوں کے اوپر نیچے ،زبان اورتالو پر انگلی سے رگڑکر صفائی حاصل کرے گا
دینی جماعتوں سے وابستہ افرادسے ایک عاجزانہ گزارش
تین اہم دینی حلقے اورجماعتیں : اہل مدارس،اہل دعوت اوراہل تصوف ان تینوں دینی جماعتوں اور حلقوں میں عملی تربیت پربہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے ،سنتوں کی عملی مشق کرائی جاتی ہے ،افسو س کہ ان تینوں حلقوں سے وابستہ افراد میں مسواک کی سنت پر جس قدرعمل ہونا چاہئے ،اتنانہیں ہے ؛حالاں کہ انہیں مسواک استعمال کرنے کی ضرورت زیادہ اور مواقع زیادہ پیش آتے ہیں ؛کیوں کہ اجتماعی اورانفرادی اعمال کا تسلسل ان کے ساتھ لگارہتاہے ،ان اعمال کے لیے مسواک مستحب وسنت ہوتی ہے ؛لیکن عمل کرنے والے بہت قلیل ہیں ،ضرورت اس بات کی ہے کہ طالبانِ علوم نبوت ،دعوت وتبلیغ میں چلنے والے احباب اور اپنی اصلاح کے لیے اللہ والوں کی خدمت میں حاضرہونے والے افراد کواساتذئہ کرام ،مشائخ عظام اور ذمہ داراحباب کی طرف سے مسواک کی طرف توجہ دلائی جائے اورانہیں ترغیب دی جائے ؛تاکہ یہ سنت خوب عام ہوسکے
مسواک کی فضیلت قسط اول اورقسط دوم کے مطالعے کے لیے ان رنگین کلمات پر کلک کریں۔
قابل قدرقارئین کرام! فیضان قاسمی ایک خالص علمی ،اصلاحی اور دینی ویب سائٹ ہے ،اس کے مضامین کو عام کریں ؛تاکہ اشاعت دین میں آٖ پ کااورہماراحصہ لگے اورہمارے لیے ذخیرئہ آخرت ثابت ہوسکے ۔
