شرح عقائد نسفی
شارح عقائد نسفیہ علامہ سعدالدین تفتازانیؒ ’’العقائدالنسفیہ‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے اپنی شرح کے مقدمے میں تحریرفرماتےہیں
علم الکلام میں علامہ نسفیؒ کا ایک مختصر وجامع متن ہے ،جو بے شمارعلمی قواعدواصول ،فوائد ونکات پر مشتمل ہے،اہل سنت والجماعت کے مسلک کے ایسے اہم اوربنیادی مباحث پرمشتمل ہے جن سے کوئی بھی صاحب ایمان مستغنی نہیں ہوسکتا۔
عقائدنسفیہ کے ماتن کا تعارف
عقائد نسفیہ کے ماتن کا اسم گرامی عمربن محمد ،کنیت ابوحفص ہے اورولادت ۴۶۱ھ میں ہوئی ۔
علامہ نسفی امام فاضل اصولی فقیہ اورمحدث تھے،ماتریدیہ کے علمائے کبارمیں سے ہیں۔(الفوئدالبھیہ : ۱۹۳)
آپ نہایت متقی وزاہد تھے ، لغت ،علم کلام ،فقہ اورحدیث میں آپ کی تصانیف ہیں ،صاحب ہدایہ کے استاذہیںاور مجتہد فی المذہب ہیں (نبراس : ۱۱)
آپ نے حنفیہ وماتریدیہ کے امام ابوالولید محمد بن محمد بن حسین بزدوی سے علم حاصل کیا ۔(اشہرالرجال والفرق،المکتبۃ الشاملۃ :۵۵)
علامہ نسفیؒ کی تصانیف
علامہ نسفی ؒ نے بے شماراہم کتابیں تصنیف فرمائی ہیں ، جن میں سےعلم العقائدمیں مشہور متن ’’العقائد ‘‘ہے جو ماتریدی مذہب کے موافق مرتب کیاگیا ہے ۔
التیسیرفی التفسیر۔ (کشف الظنون۱؍۵۱۹)
النجاح فی شرح کتاب اخبارالصحاح
الفتاوی النسفیۃ
طلبۃ الطلبۃ فی الاصطلاحات الفقہیۃ
قندفی تاریخ علماء سمرقند۔(الوفیات والاحداث)
مؤرخین نے موصوف کی تاریخ وفات ۵۳۷ھ ذکرکی ہے ۔
شارحِ عقائد
شارحِ عقائد: مسعود بن عمر بن عبداللہ ، سعد الدین لقب ، خراسان کے ایک شہر ’’تفتازان‘‘ میں ولادت کی وجہ سے تفتازانی سے مشہور ہیں ،آپ کی ولادت’’ تفتازان‘‘ میں ۷۱۲ھ میں ہوئی۔
علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل کی ، علومِ بلاغت اورمنطق کے امام ہیں ،آپ کی زبان میں قدرے لکنت تھی ،آپ کی خوب شہرت ہوئی،لوگوںنے آپ کی کتابوںسے خوب استفادہ کیا ہے ۔(ابجدالعلوم )
اساتذہ
آپ نے وقت کے ائمہء علم وفن: عبدالرحمن بن احمد بن عبدالغفار ،قاضی عضدالدین الایجی اورضیاء بن سعد بن محمد بن عثمان قزوینی وغیرہ سے علوم بلاغت حاصل کئے ۔(الدرالکامنہ فی المأۃ الثامنہ۳؍۱۱۰)
علامہ تفتازانیؒ کی تصانیف
آپ نے ’’شرح التصریف العزی ‘‘سولہ سال کی عمر میں تصنیف کی ،آپ نے علم بلاغت میں’’ تلخیص المفتا ح‘‘،’’ المطول‘‘’’’المختصر‘‘علم کلام میں ’’شرح العقائد النسفیۃ‘‘ اصول دین میں ’’المقاصد فی اصول الدین ‘‘اصول فقہ میں ’’التلویح شرح التوضیح ‘‘تفسیر میں ’’حاشیۃ علی الکشاف ‘‘اورمنطق میں’’تھذیب المنطق ‘‘تصنیف فرمائیں ہیں ۔(الدرالکامنۃفی المأۃ الثامنۃ ، الاعلام للزرکلی )
آپ کی تصانیف کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت عطافرمائی ،علمائے امت نے آپ کی کتابوں سے خوب استفادہ کیاہے ،بطورخاص ’’مختصرالمعانی ‘‘’’ شرح العقائدالنسفیۃ‘‘’’التلویح ‘‘‘اور’’ تھذیب المنطق ‘‘(شرح تہذیب کا متن) صدیوں سے داخل نصاب ہیں ۔علامہ تفتازانیؒ نے’’ سرخس‘‘ میں سکونت اختیارکی ،امیرتیمورلنگ نے آپ کو’’ سمرقند ر‘‘جلاوطن کردیا ،آپ وہیںرہے اور’’سمرقند‘‘میں اسی (۸۰)سال کی عمر میں ۷۹۱ھ میں وفات پائی ،بعض حضرات نے سن وفات ۷۹۲ھ تحریرکیا ہے ۔
شرح عقائد
علامہ ابو حفص نجم الدین عمر بن محمد النسفی الحنفی ۵۳۷ھ کی مشہور تصنیف ’’العقائد النسفیۃ‘‘ ہے، علامہ نسفیؒ علمِ عقیدہ اور علمِ کلام میں مسلکِ ماتریدیہ کے نمایاں نمائندہ تھے،علامہ نسفی ؒ کے اس مشہورمتن کی شرح بہت سارے علماءنے کی ہے ،ان میں ایک مشہو ر،مقبول اورمعروف شرح علامہ تفتازانیؒ کی ہے،جو ’’شرح العقائد‘‘ کے نام سے معروف ہے ، راجح قول کے مطابق علامہ سعدالدین تفتازانی ؒ مسلکاً اشعری تھے،خلاصہء کلام یہ ہے کہ متن ماتریدی مسلک کے موافق شرح اشعری مسلک کے موافق ہے ،علامہ تفتازانیؒ نے شرحِ عقائد کی تکمیل۷۶۸ میں فرمائی ہے ،اللہ تعالیٰ نے شرح عقائد کو قبولیت عطافرمائی ،ہندوپاک کے مدارس اسلامیہ میں سالہاسال سے داخل نصاب ہے۔
علامہ تفتازانی ؒ نے ’’شرح عقائد‘‘ کی ابتداء میں علم العقائد وعلم الفقہ کی اہمیت ،ضرورت ،وجہ تسمیہ اور تاریخ ِتدوین کو مفصل بیان فرمایاہے۔
علامہ تفتازانی ؒمتن کی عبارت میں جومشکل الفاظ آتے ہیں، ان کے لغوی اوراصطلاحی معانی ،جومدعی اورمسئلہ بیان کیاجاتاہے ،اس کی دلیل ،جوقیودات ذکرکئے گئے ہیں، ان کے فوائد کو بالتفصیل ذکرکرتے ہیں ،نیز سوالات مقدرہ کے جوابات تحریرفرماتے ہیں
مصنف نے موجودات ومخلوقات کے وجود سے موجدو خالق کے وجودپر استدلال کیاہے ،پھرموجد وخالق کی صفات ثبوتیہ وسلبیہ کوعقلی دلائل سے خوب مدلل کیاہے ۔
صفات کے بیان میں صفت کلام کو اس کی شہرت اورنزاعی ہونے کے وجہ سے نہایت تفصیل سے بیان کیا ہے ،نیز رؤیت باری کو بھی مفصل ذکرکیاہے ،اس کے بعد خلق افعال اور استطاعت کی بحث ہے ۔
پھرایمان ،بعثت انبیاء کی حکمت ،ضرورت ،معجزات اورسفرمعراج کا ذکر بھی عقلی ونقلی دلاائل سے مبرہن اورکافی تفصیلی ہے ،پھرکرامات اولیاء ،خلافت راشدہ کی ترتیب کا مدلل ومفصل بیان ہے ۔
آخرکتاب میں چند فقہی فروعی مسائل جو اہل السنۃ کی خاص پہچان کی حیثیت رکھتے ہیں ،دیگراسلامی فرقے ان سے بین اختلاف رکھتے ہیں ، ان کوذکرکیاہے ،یہی شرح عقائد کے مضامین کا خلاصہ ہے ۔
حضرت اقدس مفتی سعید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے شرح عقائدکے مضامین کاخلاصہ اس طرح بیان فرمایاہے
علم کلام: ذات وصفات کے مسائل کا نام ہے ،علم کلام کا دوسرا نام ’’علم التوحید والصفات ‘‘بھی ہے ،معتزلہ نے اللہ کی صفت ِکلام پر بحث شروع کی ،قرآن کے حادث ہونے کا دعوی کیا ،امام اہل السنۃ والجماعۃ احمد بن حنبلؒ نے ان کی تردید کی اورقرآن کو اللہ کی صفت ثابت کیا ،معتزلہ نے متعدد مسائل میں اہل السنۃ اولجماعۃ سے اختلاف کیا ،توتسمیۃ الکل بالجزء کے اعتبارسے تمام مسائل کو علم کلام کانام دے دیاگیا۔
ذات وصفات کے مسائل کا نام علم کلام ہے ، جوشرح عقائد میں عذابِ قبرپر پورا ہوتاہے ، عذاب قبر سے اسلامی مسائل کابیان شروع ہوتاہے ۔
علم کلام میں کائنات کے مبدا ومعاد سے بحث کی جاتی ہے ،مثلاً اثباتِ توحید، صفاتِ باری ، صفاتِ ثبوتیہ ،صفاتِ سلبیہ ، صفت کلام ،افعالِ مخلوق کا تذکرہ ،رؤیت باری وغیرہ ۔
معادکے سلسلےمیں برزخ کے احوال ، جنت ودوزخ ،حشرونشر،جزاء وسزا کابیان اورعلامات قیامت کا ذکر ،یہ علم کلام کے مسائل ہیں۔
پھراسلامی مسائل کا بیان شروع ہوتاہے ،اسلامی مسائل سے مراد وہ مسائل ہیںجو مختلف الخیال اورمختلف المذاہب لوگوںکی باہمی گفتگو میں مذہب کی ضرورت ،اس کی حقانیت اورترجیج کے سلسلے میں جوتاریخی ،اخلاقی ،تمدنی اورعلمی مسائل زیربحث آتے ہیں ،ان کے متعلق اسلام نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ،ان کو زیربحث لایاجائے ؛تاکہ طلبہ بابصیرت ہو ـں،عذاب قبرکی بحث کے بعد یہی مسائل شروع ہوتے ہیں۔( علمی خطبات ۲؍۲۶۹)
شرح عقائد کے مراجع
علامہ تفتازانیؒ نے شرحِ عقائد میں اپنے مراجع کی صراحت سے نہیں کی ہے؛لیکن اپنی شرح میں مندرجہ کتب ومراجع کو بکثرت ذکرفرماتے ہیں۔
الف:بصرۃ الادلۃ فی اصول الدین ۔(ابوالمعین النسفی (متوفی ۵۰۸)
ب:التمہید فی اصول الدین(ابوالمعین النسفی (متوفی ۵۰۸)
ج البدایۃ من الکفایۃ فی الھدایۃ فی أصول الدين(امام نور الدین الصابونیؒ (متوفی ۵۸۰)
د:التمہید لقواعدالتوحید (ابوالثناء الامشی (متوفی ۵۲۲)
شرح عقائد کی شروحات
علماء نے اس کی شروحات اور اس پرمفیدحواشی تحریرکئے ہیں ۔
الف:النبراس شرح شرح عقائد (عربی شرح)
ب:احمدبن موسی الخیالی نے ’’حاشیۃ الخیالی ‘‘ لکھی ہے ۔
ج: مصلح الدین مصطفی قسطلانی نے حاشیۃ الکستلی کے نام سے لکھی ہے ۔
د:علامہ سیوطی شرح عقائد میں مذکور احادیث کی تخریج ہے ۔(مقدمۃ قوت المغتذی شرح الترمذی)
ہ:ابن قطلوبغانے ’’بغیۃ الراشدفی تخریج احادیث شریح العقائد‘‘ لکھی ہے ۔
و:ملاعلی قاری ؒ نے’’ فرائدالقلائد البھیۃ فی تخریج احادیث شرح العقائد النسفیۃ‘‘ تصنیف فرمائی ہے ۔ (التعلیق الممجد علی مؤطاالامام محمد)
ز: بیان الفوائد فی شرح شرح العقائد (اردو) مولانا مجیب اللہ صاحب گونڈوی ،استاذ دارالعلوم دیوبند
علم الکلام : علم یعتقد بہ علی اثبات العقائد الدینیۃ بایرادالحجج علیھا ودفع الشبہ۔
علم الکلام: علم یبحث فیہ عن ذات اللہ تعالی وصفاتہ واحوال الممکنات من المبدأ والمعاد علی قانون الاسلام ۔
موضوعہ : الموجود من حیث ھو موجود ۔
وعندالمتاخرین موضوعہ: المعلوم من حیث یتعلق بہ اثبات العقائد الدینیۃ تعلقا قریبا اوبعیدا ۔(کشف الظنون )
الغرض : الفوز بالسعادات الدینیۃوالدنیویۃ ۔
د