مشکوة المصابیح

مشکوۃ المصابیح

’’مشکوۃ المصابیح‘‘ میں صحاح ستہ اور دیگرکتبِ حدیث سے انتخاب کرکے ان احادیث کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن کے سمجھنے میں ایک عام قاری کو دشواری نہ ہو اور احادیث نبویہ سے علمی وعملی اعتبارسے تعلق پیداہو ،یہی وجہ ہے کہ جو ابواب عملی زندگی سے متعلق ہیں ،وہ نہایت تفصیلی ہیں باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ،کتاب الادعیۃ ،باب الاستغفار اورکتاب الفتن وغیرہ ۔

اللہ تعالیٰ نے ’’مشکوۃ المصابیح‘‘ کو قبولیت ِعامہ نصیب فرمائی ،علماء نے سالہاسال سے بطورخاص ہندوستان میں داخل نصاب کیا ہے ،مشائخ نے اپنے متعلقین کے درمیان اس کے دروس کا اہتمام کرتے ہوئے آئے ہیں ، حضرت مولانا سید احمد شہید ؒ کے یہاں درس مشکوۃ کا معمول تھا جو بلاناغہ سفروحضرمیں جاری رہتاتھا۔
اس کتاب میں صحاح ستہ کا خلاصہ جمع کردیا گیاہے ،اسی وجہ سے سالہاسال سے مدارس دینیہ میں صحاح ستہ سے پہلے پڑھانے کا معمول ہے ؛تاکہ طلبہ کی نظر سے ایک مرتبہ صحاح ستہ کی احادیث مختصرتشریحات کے ساتھ گذرجائیں اورصحاح ستہ میں مزیدرسوخ وبصیرت پیداہوسکے۔

خطیب تبریزی ؒ نے علامہ بغوی ؒ کی کتاب’’مصابیح السنہ ‘‘کو سامنے رکھ کر’’ مشکوۃ المصابیح‘‘ کو مرتب فرمایا
اورخطیب تبریزی نے ’’مشکوۃ المصابیح ‘‘میں مندرجہ ذیل امورکا ’’اضافہ‘‘’’ترمیم‘‘’’حذف‘‘وغیرہ کیا ہے۔
علامہ بغویؒ نے ہرباب کو دوحصوں میں’’صحاح‘‘’’حسان‘‘ کے نام سے تقسیم فرمایاتھا ،خطیب تبریزیؒ نے علامہ بغویؒ کی ترتیب کوملحوظ رکھتے ہوئے ’’صحاح‘‘ کی جگہ ’’فصل اول ‘‘جس میں متفق علیہ روایات، یا صرف بخاری یاصرف مسلم کی روایات کو ذکرفرمایاہے۔
’’حسان ‘‘ کی جگہ ’’فصل ثانی‘‘ قائم فرمائی جس میں دیگرکتب کی روایات کو ذکرکیاہے۔
فصل ثالث کا اضافہ کیا جس میں باب کی مناسبت سے جوروایات ’’مصابیح السنہ ‘‘ میں چھوٹ گئیں تھیں، ان کا اضافہ کیاہے ۔
’’مصابیح السنہ‘‘ کی کل روایات بقول حاجی خلیفہ صاحبِ کشف الظنون چارہزارسات سوانیس(۴۷۱۹)تھیں،فصل ثالث کے ذریعے ایک ہزارپانچ سوگیارہ احادیث کااضافہ کیا،اس طرح’’ مشکوۃ المصابیح‘‘ کی کل روایات چھ ہزاردوسوتیس (۶۲۳۰)ہوگئیں۔(لمعات التنقیح مقدمۃ المحقق ۱؍۶۲)

ملاعلی قاری ؒ فرماتے ہیں
’’مصابیح السنہ‘‘ کی کل روایات چارہزارچارسو چونتیس(۴۴۳۴)تھیں،فصل ثالث کے ذریعے ایک ہزارپانچ سوگیارہ احادیث کااضافہ کیا،اس طرح’’ مشکوۃ المصابیح‘‘ کی کل روایات پانچ ہزارنوپینتالیس (۵۹۴۵)ہوگئیں۔(مرقاۃ المفاتیخ شرح مقدمۃ المشکوۃ ۱؍۴۸)
’’مصابیح السنہ‘‘ میں جواحادیث مکررتھیں،ان کو حذف کردیا۔
مصابیح السنہ کی بعض روایات کو کسی قوی مناسبت کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل کردیاہے، خطیب تبریزی ؒنے اس کی وضاحت بھی کردی ہے ۔
شروع روایت میں راوی (صحابی) کے نام کااضافہ کیاہے ۔
آخرِحدیث میںمخرج حدیث کو ذکرکیاہے ۔

خطیب تبریزی ؒ جب فصل اول کی روایت کو صحیحین یافصل ثانی کی روایات کو سنن میں نہیں پاتے، تواس جگہ’’ لم اجدہ‘‘ فرماتے ہیں،نیز فصل اول کی روایت دوسری فصل میں،یادوسری فصل کی روایت فصل اول میں آجائے، تواس پرمتنبہ فرماتے ہیں۔
علامہ بغویؒ نے صرف مرفوع روایات ذکرفرمائی تھیں، خطیب تبریزیؒ نے کسی مناسبت کی وجہ سے بعض موقوف ومقطوع روایات کو شامل کیاہے ۔
’’ مصابیح السنۃ‘‘ کی کوئی روایت ’’مشکوۃ المصابیح ‘‘میں موجودنہ ہو،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خطیب تبریزیؒ نے اس کوکسی دوسرے باب میں منتقل کردیاہے، یا تکرارکی وجہ سے حذف کردیاہے ۔
علامہ بغوی ؒکی ذکرکردہ روایت بعینہ مجھے مل نہیں سکی ،تو میں نے جورایت اس سند سے ملی ہے، اس کے الفاظ کو ذکرکیاہے ۔

’’مصابیح السنہ‘‘ میں بہت کم ایسے مقامات ہیں جہاں میں نے کہا ہے : یہ روایت مجھے مل نہیں سکی ،یہ میرا قصورہے ،علا مہ بغوی ؒ کا نہیں ،خطیب تبریزیؒ نے ایسے مقامات میں جگہ خالی چھوڑدی اورفرمایا : اگر آپ کو یہ روایت مل جائے ،تو اس جگہ اس کتاب کا حوالہ ذکرکرو۔
علامہ بغویؒ نے جن احادیث کو غریب ،ضعیف یا منکر کہا ہے ،میں نے اس کی وجہ بیان کردی ہے ، جن روایات کے ضعف کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے ،میں نے بھی سکو ت اختیارکیاہے ؛البتہ بعض مقامات پر وضاحت کی ہے ۔

علامہ بغوی ؒنے مصابیح السنۃ میں جوامع کی ترتیب پر احادیث کو جمع فرمایاہے ،چناں چہ کتاب کا آغاز کتاب الایمان ،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، کتاب الطہارۃ سے ہواہے ، آخرِکتاب میں کتاب الرقاق ،کتاب الفتن ،اشراط الساعۃ اورکتاب المناقب ہیں ،البتہ کتاب التفسیر اورکتاب المغازی کا بیان نہیں ہے ۔(ابوفیضان)
خطیب تبریزی ؒ نے ’’مشکوۃ المصابیح ‘‘ کو بروز جمعہ رمضان المبارک ۷۳۷؁ھ میںمکمل فرمایاہے ۔

علامہ حسین بن محمدطیبی ؒ کی کتاب’’الکاشف عن حقائق السنن ‘‘المعروف بشرح الطیبی ہے ،جوخطیب تبریزی ؒکے استاذمحترم نے شرح کی ہے ۔
ملاعلی قاری ؒ کی مشہوروجامع شرح ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح ‘‘ ۔
علامہ ابن حجرؒ ہیثمی کی کتاب’’فتح الالہ فی شرح المشکوۃ ‘‘ ہے۔

مولانا عبدالحق محدث دہلوی ؒ کی ’’لمعات التنقیح فی شرح مشکوۃ المصابیح ‘‘جوجامع ومختصرہے ،سمندردرکوزہ کا مصداق ہے ،جس کومولانا تقی الدین ندوی مدظلہ نے’’ مرکز الشیخ ابی الحسن الندوی‘‘ سے شائع فرمایاہے ۔
اشعۃ اللمات فی شرح المشکوۃ ۔(فارسی زبان میں)
مولانا ادریس کاندھلوی ؒ’’ کی التعلیق الصبیح فی مشکوۃ المصابیح‘‘ ہے۔
مولاناعبیداللہ رحمانی مبارک پوری کی’’ مرعاۃ المفاتیح فی شرح المشکوۃ المصابیح‘‘(ازاول تاکتاب المناسک)
حاجی خلیفہ نے ’’کشف الظنون‘‘ میں فرمایا:مشکوۃ المصابیح کی تقریبا بیالیس شروحات ہیں۔
اردوزبان میں متعدداہل علم نے مشکوۃ کی شر ح کی ہے ،اکثرشارحین نے ضروری واختلافی مباحث کی شرح کی ہے ،مکمل کتاب کی شرح ملاقطب الدینؒ کی مشہورشرح ’’مظاہرحق‘‘ ہے ۔ عبداللطیف قاسمی ،جامعہ غیث الہدی ،بنگلور،الہند

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *