دنیا کی محبت علماء کے چہرہ جمال کا بد نما داغ
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سر ہندی قدس سرہ اپنے ایک کتاب میں تحریر فرماتے ہیں
دنیا کی رغبت و محبت علماء کے چہرئہ جمال کا بد نما داغ ہے، مخلوق ان سے فائدہ اٹھاتی ہے؛ لیکن ان کا علم خودان کے حق میں سود مند اور نافع نہیں ہوتا ،اگرچہ تائیدِ شریعت اور تقویتِ ملت ان سے حاصل ہوتی ہے ؛ مگر ایسا ہوتا ہے کہ اہل فجور اور ارباب فتورسے بھی تائید و تقویت کا کام لے لیا جاتا ہے،چناں چہ سید الانبيا علیہ الصلوات والتسلیمات نے مرد فاجر کے واسطے سے تائید دین کی اطلاع دی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ ۔(رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ ؓ ،کتاب الجہاد،باب ان اللہ لیؤیدالدین الرجل الفاجر: ۳۰۶۲)
بے شک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کی مدد فرمائے گا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جو اپنے کو مسلمان کہتا تھا ‘ فرمایا کہ یہ شخص دوزخ والوں میں سے ہے، جب جنگ شروع ہوئی ،تو وہ شخص (مسلمانوں کی طرف) بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور وہ زخمی بھی ہو گیا، صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخ میں جائے گا، آج تو وہ بڑی بے جگری کے ساتھ لڑا ہے اور (زخمی ہو کر) مر بھی گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی وہی جواب دیا کہ جہنم میں جائے گا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہی: ممکن تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہو جاتا؛ لیکن ابھی لوگ اسی غور و فکر میں تھے کہ کسی نے بتایا کہ ابھی وہ مرا نہیں ہے؛ البتہ شدیدزخمی ہے، پھر جب رات آئی ،تو اس نے زخموں کی تاب نہ لا کر خودکشی کر لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، انہوں نے لوگوں میں اعلان کر دیا کہ مسلمان کے سوا جنت میں کوئی داخل نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کبھی اپنے دین کی امداد کسی فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔(رواہ البخاری عن ابی ھریرۃ ؓ ،کتاب الجہاد،باب ان اللہ لیؤیدالدین الرجل الفاجر: ۳۰۶۲)
ایسے علماء جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں سنگ پارس کے ہم رنگ ہیں، اگر تا نبا اور او رلوہا اس سے مس کرلے ،تو سونا بن جائے؛ لیکن وہ سنگ کا سنگ ہی باقی رہے، لکڑی اور چقماق میں آگ پوشیدہ ہوتی ہے، دنیا اس سے آگ نکال کر فائدہ حاصل کرتی ہے؛ مگر وہ لکڑی اور چقماق خود محروم ہے؛ بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ علم ان کے حق میں سخت مضر ہے؛کیوں کہ اس نے ان پر خدا کی حجت تمام کر دی ہے
إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَالِمٌ لَمْ يَنْفَعْهُ اللهُ بِعِلْمِهِ ۔(رواہ البیھقی فی شعب الایمان،ینبغی لطالب العلم الخ:۱۶۴۲)
قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب والوں میں وہ عالم بھی ہوگا جس کواللہ نے اس کے علم سے فائدہ نہیں پہنچایا ۔یعنی خودعالم نے اپنے علم سے فائدہ اٹھایانہیں۔
مذکورہ بالااقتباس حضرت مولانااعجازاحمدصاحب اعظمیؒ ، کی کتاب ’’حدیث دوستاں‘‘سے لیاگیاہے؛البتہ مضمون کی تکمیل اورقائیسن کے استفادے کی غرض سے پیش نظر بخاری کی روایت کااضافہ کردیاگیاہے:ابوفیضان قاسمی