سفرکی سنتیں (سفرکی تیاری)

سفرکی سنتیں (سفرکی تیاری)

جس مقصد کے لیے سفرکررہاہو،اس کے موافق تیاری کرے ،سفرسے متعلق احکام ومسائل کا علم حاصل کرے ،حج وعمرے کا سفرہو،توعلمائے کرام سے حج وعمرے کے فضائل ومسائل سیکھے ،ارکان حج وعمرے کی عملی مشق کرے ،کوئی کاری گر کسی جگہ خدمت کے لیے سفرکرہارہو ،تو ان خدمات میں تجربہ حاصل کرنے کی کوشش کرے، غرض یہ کہ جیساسفرہو ،اس کے موافق تیاری کرے ۔

زادِ راہ کا انتظام کرے ،دورانِ سفرجن چیزوں کی ضرورت ہو،ان کو اپنےسامانِ سفرمیں میں رکھ لے ،مثلًابقدرضرورت کپڑے،بستر،سردی گرمی کا لباس ،دیگرروزِ مرہ کی چیزیں ، ،ضروری اورہنگامی وقت میں استعمال ہونے والی دوائی ،اپنی ضروریات کے لیے کسی کا محتاج اورکسی سے امیدلگاکر سفرمیں نہ نکلے ؛بلکہ اپنے پاس اپنی جملہ ضروریات بقدرضرورت وکفایت موجودہونی چاہئیں،ساتھیوں کو ضرورت پیش آئے ،تو ان کی خدمت کی جائے سکے ۔

اللہ تعالیٰ کاارشادہے

وَتَزَوَّدُوا ،فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى، وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ ۔(البقرۃ:۱۹۷)

زادِ راہ ساتھ لے لو،بہترین زاد ِراہ سوال سے بچناہے ،لہذا اے عقل مندو! سوال سے بچو۔

علامہ شبیراحمدعثمانی رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں ا س آیت میں اُن لوگوں کی اصلاح کی گئی ہے جو حج وعمرے کے لیےبے سروسامانی کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے تھے اورکہتے : ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں ،پھرراستے میں بھیک مانگنے کی ضرورت پیش آجاتی ،خود بھی تکلیف ومصیبت میں مبتلاہوتے اوردوسروں کو پریشان کیاکرتے تھے،اس لیے اس طرح کے لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے دئے ہوئے اسباب ووسائل کو اپنی وسعت کے مطابق جمع کرکے لے جاؤ۔(تفسیرعثمانی ،فوائدسورۃ البقرہ : ۱۹۷)

لہذاجب حج ،دعوت وتبلیغ ،یاکسی اوردین اوردنیوی سفرمیں نکلیں ،تو زادِ راہ کا انتظام کر کے نکلنا چاہئے، شریعت نے حج اُن ہی لوگوں پر فرض کیا ہے جو زادِ راہ ،راستے کے امن ،جسمانی استطاعت وغیرہ کی ہر پہلو سے اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔

چندساتھی سفرکریں ،تو کسی کو امیرِسفرمقررکرلیاجائے ،اگرسرپرستوں کے ساتھ سفرکیاجائے ،توسرپست خود امیر ہیں،سب ساتھی اورافراد ایک جگہ سواری کا انتظارکریں ، امیرکے حکم کے مطابق سوارہوں ،جہاں کہے ،وہاں بیٹھنے کی کوشش کریں ،سواری سے اترنے کے وقت سب ایک ساتھ اتریں اورایک جگہ جمع ہوں ،اسی طرح دیگرتمام امور ساتھی اورگھر کے افراد اپنے امیراورسرپرست کے حکم کے مطابق کرتے رہیں گے ،توسب کے لیے سہولت ،آسانی اورراحت ہوگی ، افراد کے گم ہونے یابچھڑنےکا خطرہ کم رہے گا ،اگرقافلے کا کوئی امیر نہیں ہوگا ،تو قافلہ اورجماعت انتشارکا شکارہوگی ،سلیقے کے ساتھ اوروقت پر کوئی کام نہیں ہوسکے گا ،سرپرست اورامیرکی ماتحتی میں سفرکرنے سے دورانِ سفر بہت ساری الجھنوں اورپریشانیوں سے حفاظت ہوجاتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ ،فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ۔(رواہ ابوداؤدعن ابی سعیدالخدریؓ،کتاب الجھاد،باب القوم یسافرون ،یؤمرون احدھم: ۲۶۰۸)

جب تین آدمی سفرمیں نکلیں ،توچاہئے کہ کسی ایک شخص کو امیرمقررکرلیاجائے۔

اگرسفرکی تاریخ اپنےاختیارمیں ہو،حسبِ سہولت سفرکیاجاسکتاہو ،تو جمعرات کی صبح سویرے سفرمیں نکلنے کی کوشش کرے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرا ت کے دن سفرمیں نکلنا پسند فرماتے تھے،جمعرات کے دن ہی’’غزوئہ تبوک‘‘ کے لیے سفرکا آغاز فرمایاتھا۔( رواہ البخاری عن کعب بن مالکؓ ،کتاب الجہاد والسیر ،باب من ارادغزوۃ ۔۔۔ ومن احب الخروج یوم الخمیس : ۲۹۵۰)

میں نکلنے کا ارادہ کرے ،تو مستحب ہے کہ اپنے اہل وعیال ،عزیز واقارب ،دوست واحباب سے ملاقات ،معافی تلافی اورحقوق کی ادائیگی کے بعد سفرمیں جائے ،بطورخاص دینی اسفار( عمرہ ،حج ،دعوت وتبلیغ اورطویل اسفار)میں اِس عمل کو لازم سمجھے ،معلوم نہیں کہ اس سفر سے واپس آئے گا، یا نہیں ؟نیز اپنے اہل وعیال کے لیےمندرجہء ذیل دعاپڑھے۔

أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ-(الدعاء للطبرانی: ۸۲۰)

میں تمہیں اللہ کے پاس امانت رکھ رہاہوں ،جس کے یہاں امانتیں ضائع نہیں ہوتیں۔

علامہ نوویؒ آداب سفرکاتذکرہ کرتے ہوئے تحریرفرماتےہیں: جب آدمی سفرمیں نکلنےکا ارادہ کرے ،توسب سے آخرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے موافق دورکعت نفل نمازاداکرے ۔

حضرت مطعم بن مقدارم ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مَا خَلَفَ عَبْدٌ عَلَى أَهْلِهِ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يَرْكَعُهُمَا عِنْدَهُمْ حِينَ يُرِيدُ السَّفَرَ۔( مصنف ابن ابی شیبۃ ،کتاب الصلوۃ ،الرجل یرید السفرما کان یستحب الح: ۴۸۷۹)

کوئی شخص جب سفرمیں نکلنے کا ارادہ کرے ،تو،گھروالوں کےپاس دورکعت نفل نمازسے افضل کسی چیز کو چھوڑکرنہیں جاتاہے ۔

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

یعنی دورکعت نفل نماز گھروالوں کے لیے بہتریں بدل ،کفایت اورحفاظت کا ذریعہ ہے ۔

اذَا دَخَلْتَ مَنْزِلَكَ فَصَلّ رَكْعَتَيْنِ تَمْنَعَانِكَ مَدْخَلَ السُّوءِ، وَإِذَا خَرَجْتَ مِنْ مَنْزِلِكَ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ تَمْنَعَانِكَ مَخْرَجَ السُّوءِ۔(قال الہیثمی فی مجمع الزوائد :روا ہ البزار،ورجالہ موثقون ،ابواب العیدین ،باب الصلوۃ اذاخرج منزلہ واذاقدام: ۳۶۸۶)

جب (سفرسے ) گھر میں داخل ہوں ،تو دورکعت نفل نمازپڑھو،یہ دورکعت نمازتمہیں برے مدخل سے بچائیں گی ۔

یعنی گھرمیں داخل ہوں ،توان شاء اللہ اھل وعیال سے متعلق کسی جانی ومالی نقصان کےتعلق سے کسی ناگواربات کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔جب گھرسے نکلو،تودو رکعت نماز پڑھو ،یہ دورکعت نفل تمہیں برے مخرج سے بچائیں گی۔

یعنی گھرسے باہرنکلنے کی صورت میں حواد ث، فسادات ،اختلافات وغیرہ کی شکل میں ان شاء اللہ کوئی ناگواربات پیش نہیں آئے گی ۔سلام پھیرنے کے بعد آیۃ الکرسی اور سورۃ القریش پڑھے ،قرآن پاک کی برکت حاصل ہوگی اور بہت سارے اکابرواسلاف کا یہ طریقہ رہاہے ،نیز آیت الکرسی کی برکت سے انسان شرور وفتن سے محفوظ ہوجاتاہے۔اس کے بعد اپنی دنیا وآخرت کے لیے جودعائیں کرنا چاہتاہے ،کرے ،جب اپنی جگہ کھڑا ہوتوپھرمندرجہ ءدعاپڑھے :

اَللّٰهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ , وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ , وَبِكَ اعْتَصَمْتُ , أَنْتَ ثِقَتِي وَرَجَائِي , اللهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي , اللهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى , وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَجِّهْنِي إِلَى الْخَيْرِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهْتُ-(السنن الکبری للبیھقی ،کتاب الحج ،باب آداب السفر،باب الدعاء اذاسافر: ۱۰۳۰۶،کتاب الایضاح فی مناسک الحج والعمرۃ للنووی ،الباب الاولی فی آداب السفر: ۶۱)

اے اللہ میں تیری توفیق و مددسے سفرکررہاہوں،تیرے ہی طرف متوجہ ہوتاہوں، تجھ ہی سے حفاظت چاہتاہوں، تو ہی ہمار ی امید و بھروسے کے لائق ہے ،اے اللہ! میری کفایت فرمایا ان امور میں جن کی فکرمجھے اورٹنشن ہے اور ان امور میں جن کی مجھے فکر نہیں ہے ،آپ مجھ سے بہترجانتے ہیں، اے اللہ مجھے تقوے کا توشہ نصیب فرمایا، میرے گناہوں کو معاف فرمااور جہاں کہیں میں جاؤں وہاںمجھے خیرکی طرف متوجہ فرما۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *