سفرکی سنتیں ،آداب اوراحکام

سفرکی سنتیں ،آداب اوراحکام

سفر انسانی ضرورت ہے،انسان اپنی مختلف خواہشات اورضروریات کے پیش نظر سفرکرتاہے، کسبِ معاش، عزیز ،اقارب اوردوست واحباب سے ملاقات ،قدرتی مناظرکا مشاہدہ،آثارقدیمہ کی تحقیق و مطالعہ ،سیروتفریح ،عبرت پذیری ،حج وعمرے کی سعادت ،روضہء رسول پرحاضری ،حصول علم اوردعوت وتبلیغ۔۔۔ غرض: انسان کو مختلف ذاتی ،دنیوی اوردینی اسفار کی ضرورت پیش آتی ہے ۔

حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے حج کی ادائیگی کے لیے ہندوستان سے مکہ مکرمہ کے لیے کئی سفرکئے ،حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اولًا شام کی جانب ہجرت ،وہاں سے ’’کعبۃ اللہ‘‘ کی آبادی کے لیے اپنے خانوادے کو بسانے کے لیے مکہ مکرمہ کا سفر،پھر ان کی خبرگیری کے لیے مستقل اسفارفرماتے رہے ۔

حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے علم میں اضافے کے لیے دوردرازعلاقے کا سفرفرمایا ،آپ کے سفرسے بعض تکوینی امور کے اسرارورموز کے حقائق کو ظاہرکیاگیا ،حضرت ذوالقرنین نے بحیثیت سربراہ ِمملکت مشرق ومغرب کا سفرفرمایا ،وہاں کے باشندوں کی ضروریات کی تکمیل کی ،حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی جان بچانے کے لیے ’’مصر‘‘سے’’ مدین‘‘ کا سفر،پھر فرعون کو دین کی دعوت دینے کے لیے’’ مدین‘‘ سے’’ مصر‘‘ کا سفرکیا ،حضرات صحابہ نے اپنی دینی آزادی کے لیے اولًا حبشہ ،ثانیا ًمدینےکا سفرکیا،حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے کی طرف ہجرت کا سفر،پھر دین کی تبلیغ ،اشاعت اور سربلندی کے لیے بدر،خیبر،مکہ ،تبوک اور حج الوداع کے لیے اسفارفرمائے ۔

حضرات صحابہ ،تابعین اور مجاہدین نےدین کی تبلیغ ،اسلام کی سربلندی اورسرفرازی کے لیے اسلامی پرچم لے کر مشرق ومغرب کے اسفارکئے ، محدثین ِکرام نےاحادیث کو جمع کرنے کے لیے عالم اسلام کی خاک چھانی،غرض یہ کہ انسان کو سفرسےمفرنہیں ۔

اللہ جل شانہ اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے سامنے سفرسے متعلق رہنما ہدایات وتعلیمات پیش فرمائی ہیں ،حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم جب سفرمیں جاتے ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کوبہت ساری باتوں کی تاکیدووصیت فرماتے اور ایسےامور کی طرف رہبری اوررہنمائی فرماتے جن کی وجہ سے انسان اپنے رب کی نعمتوں کا شکر اداکرسکے ،اپنے سفرکو خیروبرکتوں پرمشتمل کامیاب سفر بناسکے ،سفرمیں مصائب و مشکلات سے محفوظ رہ سکے ،ذیل میں ان ہی اسلامی آدابِ سفرکو بالترتیب جمع کیاجارہاہے ؛تاکہ ہم ا ن اسلامی تعلیمات ،ہدایات اورآداب پرعمل کرتے ہوئے شروروفتن ،حوادث اورمصائب سےحفاظت کے ساتھ اپنے اسفار کوکامیاب اور طاعت وعبادت کا ذریعہ بنا سکیں۔

آدمی جب سفرکاارادہ کرے ،توکسی نیک وخیرخواہ انسان کو اپنارفیق بنائے جوسفر میںہمارے لیے انس کا ذریعہ ہو ،ہمارا تعاون کرے ،رہبر ی کرے ،کوئی کام بھول جائیں،تو یاددہانی کرانے والاہو ، جس مقصد کے لیے سفرکررہاہے ،اُس سفرکے مناسب ساتھی کا انتخاب کرے ،مثلًا حج وعمرہ ،دعوت وتبلیغ ،یاکوئی دینی سفردرپیش ہو ،تو اہل علم کے ساتھ سفرکرنے کی کوشش کرے ،اہل علم دینی رہبری کریں گے ،ہماری عبادتیں صحیح اور مقبول ہوں گی،ہمارا مال اوروقت کا صحیح استعمال ہوگا ،کوئی تجارتی سفرہو ،تو اسی اعتبارسے کسی نیک وتجربہ کارانسان کے ساتھ سفرکرے ،وہ اپنی نیکی اورتجربہ کی بناپر ہماری خیرخواہی کرے گا۔حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ۔(ابوداؤد،کتاب الآداب ،باب من یومر ان یجالس: ۴۸۳۳)

آدمی اپنے دوست کے طریقے کو (غیرشعوری طورپر) قبول کرلیتاہے ،لہذاتمہیں غوروفکرکرنا چاہئے کہ تم کیسے انسان سے دوستی کررہے ہو؟

تنہاسفرکرناجائز ہے ؛مگرپسندیدہ نہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے موقعوں پر حضرات صحابہ کو تنہاسفرپرروانہ فرمایاہے۔(ترمذی ،کتاب الجہاد،باب ماجاء فی الرجل یبعث سریۃ وحدہ :۱۶۷۲)

حضرات صحابہ نے بھی تنہاسفرفرمایاہے ؛لیکن عام حالات میں بلاضرورت شدیدہ تنہا سفرشرعًاپسندیدہ نہیںہے ،سفرمیں کچھ نہ کچھ ساتھی ہونے چاہئیں ، ہنگامی حالات : حادثات،مصائب اور امراض بکثرت اچانک پیش آجاتے ہیں،کوئی عزیز ،قریب ،رفیق ہوگا ،تو اس کی مددکرے گا ،حالات سے گھرکے افراد کو اطلاع دے گا ،نیز عورتیں ، کم عمر بچے ،بیمار،بوڑھے قسم کے افراد اوروہ افراد جن کودشمنوں کی طرف سے جان ومال کے سلسلے میں ممکنہ خطرات لاحق ہو ں،ان کوہرگزتنہاسفرنہیں کرنا چاہئے، نیزبدامنی،فسادات کے زمانے اور علاقے میں کسی کو بھی تنہا ہرگزسفرنہیںکرناچاہئے ،ایسے پرخطرحالات کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرمایا

لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ۔( رواہ البخاری عن ابن عمرؓ،کتاب لجھاد،باب السیروحدہ  :۲۹۹۸)

اگرلوگ تنہائی کے بارے میں(شرونقصان کی )وہ باتیں جان لیں جومیں جانتاہوں ،تو کوئی مسافررات میں تنہاسفرنہیں کرے گا۔

آج کل کی گرتی ہوئی اخلاقی صورتِ حال اورنہایت پرفتن دورمیں اپنی عفت وعصمت کے تحفظ،گناہوں اور فتنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین محرم کےبغیرہرگزسفرنہ کریں؛ کیوں کہ محرم کے ساتھ سفر کرنے کا مقصد عورت کی جان ،مال ،عزت وآبروکی حفاطت ہے ، کسی بھی طرح کے منفی اثرات سے بچانا ہے، نیز سفر چھوٹا ہو ،یا لمبا، دورانِ سفر ناگہانی صورتِ حال پیدا ہونے کا خدشہ بہت ہی قوی ہوگیاہے۔

سفر مشقت کا باعث ہے،اسی لیےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفرکو عذاب کا ٹکڑابتایاہے ،عورت اپنی جسمانی کمزوری کے باعث کسی مردکے سہارے کی محتاج ہوتی ہے جوضرورت پر اس کی مدد کرے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عورت ہنگامی ضرورت پر درست فیصلہ نہیں کرپاتی اور محرم کی عدم موجودگی میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہو جاتی ، یہ چیزیں موجودہ زمانے کے سفر ی حادثات میں عام ہیں،لہذا خواتین کو تنہاسفرکرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔

لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَكُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا، أَوْ أَخُوهَا، أَوْ زَوْجُهَا، أَوْ ابْنُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا۔(رواہ الترمذی عن ابی سعیدؓ،کتاب الرضاع،باب ماجاء فی کراہیۃ ان تسافرالمرأۃ وحدھا : ۱۱۶۹)

اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی خاتون کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن، یاتین دن سے زیادہ دنوں کا سفر کرے ،الایہ کہ اس کے ساتھ ا س کا باپ،بھائی ،شوہر ،بیٹا یاکوئی اورمحرم ہو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ۔(رواہ الترمذی ،کتاب الرضاع،باب ماجاء فی کراہیۃ ان تسافرالمرأۃ وحدھا : ۱۱۷۰)

اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی خاتون کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایک دن کا سفربھی محرم کے بغیر کرے ۔

حضر ت مفتی سعیداحمدصاحب نوراللہ مرقدہ تحریرفرماتےہیں

عورت کے لیےتنہاسفرکرنے کی ممانعت خوفِ فتنہ کی وجہ سے ہے ۔۔۔اگرفتنے کا اندیشہ ہو ،تو ایک رات دن کا سفربھی نہ کرے ، اگراندیشہ نہ ہو ،تین رات دن سے کم کا سفرکرسکتی ہے ۔(تحفۃ الالمعی ،کتاب الرضاع،باب ماجاء فی کراھیۃ ان تسافرالمأۃ وحدھا۳؍۶۰۸)

محترم قارئین کرام ! سفر کی سنتیں اور آداب واحکام کی دوسری قسط ان شاء اللہ دوسری پوسٹ میں آئے گی ،فقط عبداللطیف قاسمی

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *