قربانی اورعقل انسانی

قربانی اورعقل انسانی قسط اول

قربانی ابتدائے انسانیت سے آج تک ہرقوم میں کسی نہ کسی صورت میں رائج رہی ہے ، اممِ سابقہ میں قربانی کا رواج تھا جس کا ذکرقرآ ن پاک میں کیاگیاہے ،نیز اقوام ِعالم یہود اورنصاری میں قربانی مشروع تھی ، ہندوستان میں بعض مذہب والے خاص موسم ومخصوص تہوارکے موقع پر آج بھی اپنے بتوں کے سامنے ان کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں ؛لیکن لوگوں کو صرف امت محمدیہ کی قربانی پر شبہات پیش آتے ہیں ،ہماری قوم کا دانش ور، مہذب اورتعلیم یافتہ طبقہ اسی امت کو مفید مشوروں سے نوازتانظرآتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا، وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ۔(المائدۃ: ۲۷)

جب (حضر ت آدم علیہ السلام کے صلبی )دونوں(بیٹوں) نے قربانی پیش کی، تو ان دونوں میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی۔

الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ، قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ ،فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ۔(آل عمران :۱۸۳)

ان لوگوں (یہود)نے کہا کہ الله تعالیٰ نے ہم سے عہد لیا کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جس کو آگ کھا لے ،کہہ دو کہ مجھ سے پہلے رسول معجزات کے ساتھ تمھارے پاس آئے اور انہوں نے وہ بات بھی پیش کی جس کا تم نے مطالبہ کیا ،تو پھر تم نے ان کو قتل کیوںکیا، اگر تم سچے ہو ۔یعنی گذشتہ انبیاء کے زمانے میں ایسی قربانی کا دستور تھا کہ قربانی کی اشیاء کو ایک جگہ رکھ دیا کرتے تھے، آگ آتی اور ان کو جلا دیا کرتی ، آسمانی آگ کا جلادیناقربانی قبول ہونے کی علامت ہوتی تھی ۔

مسلم یا مسلمان :احکام الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے یا گردن جھکانے والے کو کہتے ہیں،مسلمان کا جذبۂ ایمانی ہمیشہ اُسے تیار رکھتا ہے کہ جو بھی حکمِ الٰہی اس کو دیاجائے ،تو اس کو بجالاتاہے، وہ اُسے بلاچوں وچرا قبول کرلیتاہے؛لیکن بعض کج رو، کج فہم اور کوتاہ نظر اللہ تعالیٰ کے بعض احکام کو اپنی ناقص عقل کی کسوٹی پر رکھ کر قبول یا رد کرنے کی ناروا جسارت کرنے لگتے ہیں اور ایسے لوگ جب ذرائع ابلاغ کاحصہ بنتے ہیں ،یا ذرائعِ ابلاغ تک ان کی رسائی میں کوئی مشکل نہ ہو، تو وہ اسلامی احکام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے اور اپنی کج فہمی کے مسموم جراثیم مسلمانوں کے درمیان عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلامی احکام میں ایک اہم اورپرُحکمت حکم ’’ قربانی ‘‘ بھی ہے جو امتِ مسلمہ سالانہ بجالاتی ہے اور بھرپور جذبۂ ایمانی سے ادائیگی کا اہتمام کرتی ہے؛ مگربعض غیرمسلم ،ملحدین ِاسلام ،تجددپسند مسلمان اور بعض نادان غیرمقلدین اس سنتِ ابراہیمی سے متعلق اپنے فاسد خیالات کو عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، زیرنظر مقالے میں قربانی سے متعلق اس طرح کے سطحی شکوک وشبہات کا علمی جائزہ لیا جائے گا ۔

یاقربانی عقل انسانی کے خلاف ہےبعض غیرمسلم ،ملحدین ِاسلام اورمستشرقین قربانی پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں قربانی کی اصل ہی عقلِ انسانی کے خلاف ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں،؛حالاںکہ قرآن کا اعلان ہے کہ قربانی گویاقتل ہے اور قتل کی سزا ہمیشہ کے لیے جہنم ہے، نیز بچوں کو تو جہاد میں بھی قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے،؟پھر معصوم بچے کو ذبح کرنے کی گنجائش کیسے دی جاسکتی ہے ؟الغرض عقل کبھی بچے اور بالخصوص اپنے معصوم بچے کے قتل کو تسلیم نہیں کر سکتی؟

 اگر قربانی کی حقیقت پر نظر ہو، تو یہ وسوسہ پیدا نہیں ہو گا،قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی امانت کو اُس کے حکم کے موافق قربان کردینا ،خواہ وہ ہماری عقل کے موافق ہو ،یا اس کے خلاف ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیاگیا ،بیٹا خداکا دیاہوا تھا ،اُس کے حکم کوپوراکرنا ایک مطیع وفرماں بردا راوروفادار بندے کی ذمہ داری ہے ،اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی،انہوں نے اللہ سے یہ نہیں پوچھا کہ ا ے اللہ! جو بچہ مجھے برسہا برس دعائیں مانگنے کے بعد ملا، آخر اس کا قصور کیا ہے؟ اگر قصور بھی ہے ،تو اس کو ذبح کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟ نہیں، اس لیے کہ جہاں اور جس کام میں اللہ کا حکم آ جاتا ہے، وہاں چوں وچرا کی گنجائش نہیں رہتی ؛بلکہ ایک فرماں برداربندےکی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے۔

غیرمسلموں کی طرف سے ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے اورکہاجاتاہے کہ جانوروں کو قربانی کے نام پر قتل کرنا درندگی ہے،یہ حد درجہ بے رحمی اور بے مروتی ہے؛حالاں کہ یہ اعتراض اپنے آپ میں ایک حماقت ہے، ذرا غور کریں کہ کیا اس جیوہتیا(جانور کاقتل) سے بچنا ممکن بھی ہے؟ آپ جب پانی یا دودھ کا ایک گلاس اپنے حلق سے اْتارتے ہیں، توان میں موجود سینکڑوں جراثیم مر جاتے ہیں ، پھر آپ جن دواؤں کا استعمال کرتے ہیں ، وہ آپ کے جسم میں پہنچ کر کیا کام کرتی ہیں ؟ دوائی کاکام تویہی ہے کہ جو نقصان دہ جراثیم آپ کے جسم میں پیدا ہوگئے ہوں اور پنپ رہے ہوں ، ان کا خاتمہ کردیں، جانور کا قتل یا ’’جیو ہتیا‘‘ کے broad concept کے ساتھ تو آپ پانی تک نہیں پی سکتے اور نہ دواؤں کا استعمال آپ کے لیے روا ہوسکتا ہے، پھر آج کی سائنس نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ جس طرح حیوانات میں زندگی اور روح موجود ہے، اسی طرح پودوں میں بھی زندگی ہے اور نباتات بھی احساسات رکھتے ہیں۔

خود ہندو فلسفےمیں بھی پودوں میں زندگی مانی گئی ہے، سوامی دیانندجی نے ’’آواگون‘‘ میں روح کے منتقل ہونے کے تین قالب قرار دئے ہیں : انسان، حیوان اور نباتات، یہ نباتات میں زندگی کا کھلا اقرار ہے، تو اگر ’جیوہتیا‘ سے بچنا ہے، تو نباتاتی غذا سے بھی بچنا ہوگا، گویا اس کائنات میں ایسے انسانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں جو مکمل طور پر جیوہتیا سے بچ کر جینا چاہتے ہوں۔

کیا دنیا میں جانور ایک دوسرے کا شکار نہیں کرتے؟ دنیا کی ساری چیزیں اللہ نے انسان کے فائدے کے لیے بنائی ہیں، کیا جانوروں پر ہل جوتنے کا بوجھ ڈالنا ،بے رحمی نہیں ہے؟ اگر کسی جان کو مارنا بے رحمی ہے، تو ہم مکھی اور مچھر بھی نہیں مار سکتے ، جراثیم بھی نہیں مار سکتے۔

اس پوری بحث سے یہ بات وضاحت ہو جاتی ہے کہ جس دلیل سے ہم گوشت نہیں کھا سکتے، اُسی دلیل سے ہم سبزی بھی نہیں کھا سکتے ؛کیوں کہ زندگی ہر چیز میں ہوتی ہے۔

اگر ہم گوشت اور سبزی کی حقیقت الگ الگ بھی مان لیں، تو وہ ملک جہاں کھیتی نہیں ہو سکتی، صرف گھاس ہوتی ہے ،وہاں لوگ کیا کھائیں گے؟ جو ملک سمندر کے کنارے ہیں ،جہاں کھانے کو صرف مچھلی ملتی ہے، جیسے جاپان وہاں لوگ کیا کھائیں گے؟

شمالی امریکہ میں بسنے والی قوم کیا کھائی گی؟جہاں نہ باغات ،نہ کھیت ؛بلکہ صرف سیل اور وہیل کھاتے ہیں ،یا بارہ سنگھے کا شکار کرتے ہیں ، دنیا بھر میں.جتنا گوشت کھایا جاتا ہے اگر وہ نہ کھایا جائےاور جانوروں کو ہم بطور خواراک استعمال نہ کریں ، تو دیگراشیاء خوردنی کی کمی ہوجائے گی ،قیمتیں بڑھ جائیں گی ،بے کار مویشی ملکوں کے لیے مصیبت بن جائیں گے۔

منکرین اسلام اور ملحدین کی طرف سے ایک اعتراض یہ بھی سامنے آتا ہے کہ زندہ جانوروں کے گلے پر چھری پھیر دینا بھی عقلِ سلیم کے خلاف ہے، یہ فعل مسلمانوں کی بے رحمی پر دلالت کرتا ہے، اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی ؒ فرماتے ہیں:

’’ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ شریعتِ اسلامیہ سے زیادہ رحم کسی مذہب میں بھی نہیں ہےاور ذبحِ حیوان رحم کے خلاف نہیں؛ بلکہ ان کے حق میں اپنی موت مرنے سے مذبوح ہو کر مرنا بہتر ہے؛ کیوں کہ خود مرنے میں قتل وذبح کی موت سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔

رہا یہ سوال کہ پھر انسان کو ذبح کر دیا جایا کرے؛ تا کہ آسانی سے مر جایا کرے، اس کا جواب یہ ہے کہ حالتِ یاس سے پہلے ذبح کرنا ،تو دیدہ دانستہ قتل ہے اور حالتِ یاس پتہ نہیں چل سکتی ؛کیوں کہ بعض لوگ ایسے بھی دیکھے گئے ہیں کہ مرنے کے قریب ہو گئے پھر اچھے ہو گئے۔

شبہ حیوانات میں کیا جائے کہ ان کی تو یاس کا انتظار نہیں کیا جاتا؟ جواب یہ ہے کہ بہائم اور انسان میں فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کا تو اِبقاء (باقی رکھنا) مقصود ہے، کیو ںکہ خلقِ عالم سے وہی مقصود ہے، اسی لیے ملائکہ کے موجود ہوتے ہوئے اس کو پیدا کیا گیا؛ بلکہ تمام مخلوق کے موجود ہونے کے بعد اس کو پیدا کیا گیا؛کیوں کہ نتیجہ اور مقصود تمام مقدمات کے بعد وجودمیںآتا ہے، اس لیے انسان کے قتل اور ذبح کی اجازت نہیں دی گئی، ورنہ بہت سے لوگ ایسی حالت میں ذبح کر دئیے جائیں گے، جس کے بعد ان کے تن درست ہونے کی امید تھی اور ذبح کرنے والوں کے نزدیک وہ یاس کی حالت میں تھا اور جانور کا اِبقاء مقصود نہیں، اس لیے اس کے ذبح کی اجازت اس بنا پر دے دی گئی کہ ذبح ہو جانے میں ان کو راحت ہے اور ذبح ہو جانے کے بعدان کا گوشت وغیرہ بقائے انسانی میں مفید ہے، جس کا اِبقاء مقصود ہے، اس کو اگر ذبح نہ کیا جائے اور یوں ہی مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے، تو وہ مردہ ہو کر اس کے گوشت میں سمّیت کا اثر پھیل جائے گا اور اس کا استعمال انسان کی صحت کے لیے مضر ہو گا، تو اِبقاء انسان کا وسیلہ نہ بنے گا ۔

قصاص اور جہاد میں چوں کہ افناء ِ بعض افرادبغرضِ اِبقاء جمیع الناس متیقن ہے، اس لیے وہاں قتل انسانی کی اجازت دی گئی؛ مگر ساتھ ہی اس کی رعایت کی گئی کہ حتیٰ الامکان سہولت کی صورت سے مارا جائے، یعنی قصاص میں جو کہ قتلِ اختیاری ہے، تلوار سےاور جہاد میں مثلہ وغیرہ کی ممانعت ہے۔ (اشرف الجواب،حصہ اول انیسواں اعتراض: ذبح کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب :۷۶)،اصلاحی مضامین ومقالات : ۲۲۴تا ۲۲۹)مرتب : مفتی عبداللطیف قاسمی ،جامعہ غیث الہدی ،بنگلور

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *